5 جون 2012 - 19:30

شامی باغیوں کے مسلح گروہ کے ترجمان سامی الکردی نے اعلان کیا ہے کہ یہ گروہ جنگ بندی منصوبہ کا پابند نہيں ہے ۔

ابنا: انھوں نے کہاکہ کہ ہم نےاقوام متحدہ کے منصوبہ کے بارے میں جو وعدہ کیا تھا اس کے پابند نہ رہنے اور عوام کا دفاع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔شام کا باغی گروہ جسے عوام کا دفاع کہہ رہے ہیں وہ دراصل ان کے خلاف جنگ ہے ۔کیونکہ پرسوں شام کے مسلح اور باغی گروہ کے ہاتھوں شام میں کم ازکم اسی افراد مارے گئے ہیں ۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ شام مخالف مسلح گروہ اقوام متحدہ کے ناظرین کے گروہ کو شام میں ایک صلح ایجاد کرنے والے گروہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔اور اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ حکومت شام کے خلاف سخت اقدامات کرے اور شام کو پرواز کے لئےممنوعہ علاقہ قراردے ۔ثبوت وشواہد سے پتہ چلتاہے کہ شام کے داخلی اور خارجی مخالفین کی سازش یہ ہے کہ کوفی عنان کے منصوبہ کو ناکام بنایا دیاجائے ۔البتہ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ مخالفین شروع ہی سے کوفی عنان کے منصوبے اور جنگ بندی کے مخالف تھے ۔ رپورٹوں سے پتہ چلتاہے کہ مخالفین شروع ہی سے کوفی عنان کے منصوبہ پر عمل درآمد کے مخالف تھے اسی لئے انھوں سے تین ہزار سے زائد مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے ۔

اور شام میں حمص کے اطراف میں واقع حولہ گاؤں میں لوگوں کا قتل عام ان کے مظالم اور جنگ بندی کے خلاف واضح مصداق ہے ۔اگر چہ شام کے خلاف مغربی اور عرب اتحاد حولہ گاؤں کے مظالم کی نسبت حکومت شام کی طرف دے رہے ہیں لکن ثبوت وشواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مخالفین اور مسلح گروپ نے مغرب اور بعض عرب ممالک کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد اور حمایت کے ذریعہ حولہ گاؤں والوں پر یہ ظلم ڈھایا ہےتاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ کوفی عنان کا منصوبہ کامیاب نہیں رہا ہے ۔اس وقت بھی مغرب اور بعض علاقائی ممالک جیسے سعودی عرب اور قطر شام کے خلاف فوی مداخلت کے اسباب فراہم کرنے کوشش کر رہے ہیں ۔اس سلسلے میں وہ پہلے کوفی عنان کے منصوبہ کو ناکام قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے بعد شام کے خلاف فوجی حملہ کرنے کی تیاری میں ہیں ۔ لبیا کی طرح شام میں بھی اپنی پالیسی کو عملی جامہ پہنا نا چاہتے ہیں ۔ اس سناریو پر عمل درآمد کے لئے مغرب اور سعودی عرب کے لئے بہترین آلہ کار شام کے مخالفین اور دہشت گرد ہیں ۔ امریکہ اور بعض عرب ممالک کے پٹھو شام کے مخالفین اور دہشت گرد جنھوں نے حالیہ دنوں میں شام میں حمص کے قریب حولہ گاؤں میں لوگوں کا قتل عام کرکے اس کا الزام حکومت شام پر لگا کر یہ کہنا شروع کردیا کہ وہ اب جنگ بندی کے پابند نہیں ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بعض افراد شام میں داخلی جنگ چھیڑ کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔

حالیہ دنوں میں شام کے باغیوں نے سعودی عرب اور قطر کے تعاون سے شام میں تشدد اور خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کی لیکن ان کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں ۔کیونکہ مخالفین اور باغیوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود بشار اسد نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو سیاسی راہ حل کے ذریعہ شکست دینی چاہئیے جس کے معنی یہ ہیں کہ بشار اسد اب بھی کوفی عنان کے امن منصوبہ کے پابند ہیں ۔ روس نے بھی اعلان کیا ہے کہ شام کے بحران کا فوجی طریقہ سے کوئی راہ حل نہیں ہے بلکہ سفارتی اور ڈپلو میٹک طریقہ سے حل ہونا چاہئیے ۔ ماسکو کا یہ خطاب ان لوگوں کے لئے ہے جو شام کے مسائل کو بین الاقوامی بحران قرار دے کر اس پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہيں یہ ایسے وقت ہے مغرب اور بعض عرب ممالک کی ان کوششوں کے باوجود کہ کوفی عنان کے منصوبہ کو ناکام قرار دیا جائے عالمی برادری کوفی عنان کے منصوبہ کے ذریعہ شام کے مسائل کا حل چاہتی ہے ۔ .......

/169